جکارتہ 11 دسمبر (ایس او نیوز) انڈونیشیا کے شمالی سماترا کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے فلسطین کی حمایت میں ریلی نکالی جبکہ اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہوکی مخالفت میں بھی زبردست ریلی نکالی گئی۔
سماترا میں نکالی گئی ریلی میں شرکاء نے مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو اپنے خاندان کی طرح قرار دیا۔ میڈان میں فلسطینیوں کے حق میں ریلی اتوارکو سلطان آف دیلی کے سابق محل استانہ میمون کے سامنے نکالی گئی۔ یہ ایک اہم جگہ ہے جسے کبھی کبھی برطانیہ کے بکنگھم پیلس سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
ریلی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے۴۰؍ سالہ مقامی رہائشی مصطفی کمال ہراہپ نے کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ آئیں اور بطور مسلمان اپنی حمایت کا اظہار کریں ۷، ۹؍ اور۱۳؍ سال کی عمر کے اپنے تین بچوں کے ساتھ ریلی میں شریک ہراہپ نے بتایاکہ ’’جب بھی کوئی مظاہرہ ہوتا ہے، میں بچوں کو لاتا ہوں کیونکہ میرے لئے یہ ضروری ہے کہ میں انہیں انسانیت کے بارے میں سکھاؤں ۔ ان مظاہروں میں شرکت کیلئے میرا محرک یہ ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ فلسطین کو آزادی دی جائے گی اور جنگ بندی ہو گی کیونکہ جیسے جیسے جنگ کی شدت بڑھتی جارہی ہے،ویسے ویسے وہاں کے زیادہ سے زیادہ لوگ متاثرین ہو رہے ہیں ۔ ہرہاپ نے کہا کہ اس نے فلسطین کی حمایت میں سماترا کے مختلف حصوں میں تین دیگر احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی ہے۔
غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے پورے انڈونیشیا میں فلسطینیوں کے حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں ۔انڈونیشیا، جہاں عوامی جذبات زیادہ تر فلسطینیوں کے حق ہیں ، دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والامسلم ملک ہے۔ مظاہروں کے علاوہ ملک بھر میں میکڈونلڈ اور اسٹاربکس سمیت اسرائیل کے ساتھ وابستہ سمجھے جانے والےپروڈکٹ کا بائیکاٹ کرنے کابھی اعلان کیا گیا ہے۔
میڈان میں ۵۰؍ سالہ مقامی گھریلو خاتون ایکا ساری نے کہا کہ اس نے ریلی میں شرکت کی کیونکہ وہ فلسطینی کاز کی ہر ممکن حمایت کرنے کی خواہشمند تھیں ۔ساری نے الجزیرہ کو بتایاکہ ہم وہاں فلسطین جائیں گے اور اگر ہم کر سکتے تو مدد کریں گے لیکن ہم نہیں کر سکتے، لہٰذا یہ سب سے بہتر ہے کہ ہم اپنی حمایت کا اظہار کر یں ۔ ساری نے کہا کہ شرکاء میں سے بہت سی گھریلو خواتین تھیں جو کھانا پکانے اور رسدو خوراک میں مدد کیلئے موقع ملتے ہی فلسطین جانے کیلئے تیار تھیں۔
خاتون خانہ ساری نے کہا کہ جہاں مذہب فلسطینیوں کی حمایت کا ایک عنصر ہے، وہیں غزہ کیلئے انسانی امداد کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے غزہ پر اسرائیل کی بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’اگر ہم مذہب کو اس سے نکال بھی لیں تو بھی ان لوگوں میں انسانیت نہیں ہے۔ وہ اسپتالوں اور اسکولوں میں بچوں پر بمباری کر رہے ہیں تاکہ وہ تعلیم حاصل نہ کرسکیں اور وہ اپنی گلیوں میں کھیل نہ سکیں ۔ صیہونیوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کہاں بمباری کرتے ہیں۔‘‘
ریلی کا انعقاد ایک بین المذاہب تقریب کے طور پر کیا گیا تھا جس میں مسلم، پروٹسٹنٹ، کیتھولک، ہندو، بدھ مت اور دیگر مقررین کو انڈونیشیا کے ۶؍سرکاری مذاہب کے نمائندوں کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔انڈونیشیا کے اسرائیل کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
مقبوضہ علاقوں میں لاکھوں صہیونیوں نے وزیراعظم نتن یاہو کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا ۔تفصیلات کے مطابق تل ابیب اور حیفہ میں ہونے والے مظاہروں کے شرکاء نے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی رہائی اور وزیراعظم نتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ذرائع کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر نتن یاہو کابینہ کے خلاف نعرے درج تھے۔ پلے کارڈز پر ’خونی کابینہ مستعفی ہوجائے‘ جیسے نعرے بھی درج تھے۔درایں اثناء اسرائیلی چینل۱۳؍ نے کہا ہے کہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق۷۲؍ فیصد اسرائیلی شہری وزیراعظم نتن یاہو کے استعفیٰ کے حامی ہیں ۔سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان میں سے۳۱؍ فیصد ان کا فوری استعفیٰ چاہتے ہیں جبکہ بقیہ شہری غزہ جنگ کے بعد نتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے سنیچر کو تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر پر جمع ہوئے اورغزہ میں ۱۳۸؍ یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔جیسے ہی مقررین اسٹیج پر پہنچے ہجوم میں شامل لوگوں نے پلے کارڈز اٹھایا جن پر یہ پیغامات تحریر تھے’ وہ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں کہ انہیں جہنم سے نکالیں ‘ اور’انہیں ابھی گھر لے آئیں ‘۔ جبکہ رہائی پانے والے یرغمالیوں کے ساتھ دل دہلا دینے والے کلپس دکھائے گئے جس میں ان کی خوفناک تفصیلات کا انکشاف کیا گیا۔ مارگلیت موزس (۷۷) جسے کبوتز نیر اوز سے اغوا کیا گیا تھا، نے کہا کہ ایک دہشت گرد اس کی آکسیجن کنسنٹیٹر مشین لے گیا جس کی اسے عام طور پر سونے کے وقت ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘ یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی مدد کرنے والی ایک رضاکار تنظیم’ برنگ دیم ہوم ناؤ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس نے کہاکہ وہ اس کا مطلب سمجھ گیا لیکن اس نے پرواہ نہیں کی۔ مذکورہ خاتون نے یہ بھی کہا کہ ’’میں ۴۹؍ دنوں سے نہیں سوئی ۔ ذہنی اور جسمانی پریشانی تھی اور گزرنے والے ہر دن کے ساتھ یہ مشکل سے زیادہ مشکل ہوتی جارہی ہے۔
ٹائمس آف اسرائیل کی خبر کے مطابق آزاد ہونے والی یرغمالی۷۲؍ سالہ ادینہ موشے نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ وہ کبوتز نیر اوز سے اس کی گہری دوست غزہ میں ہیں ، یہ سبھی بوڑھے، بیمار اور مناسب ادویات کے بغیر ہیں ۔ جب میں وہاں تھی، وہاں کھانے کی صورتحال خراب ہو گئی تھی۔ آخر کار ہمیں صرف چاول کھانے کی نوبت آگئی۔ انہوں نے اسرائیل سے التجا کرتے ہوئے کہا کہ باقی یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کیلئے سب کچھ کریں۔
مایا(۲۱) اور ایٹے ریجیو (۱۸)کی ایک ویڈیو نے انہیں یہ کہتے ہوئے دکھایا کہ قید میں ہر دن جہنم کی طرح ہے ۔ شدید خوف، نیند بالکل نہیں ، معلومات کی کمی خوفناک ہےانہوں نےیہ کہا کہ ہر دن ’ہمیشہ کی طرح‘ ہے اور وہ اپنے خاندان کو یاد کرتے ہیں ، بھوکے تھے اور مشکل حالات کا شکار تھے۔آخری ویڈیو میں ۷۷؍ سالہ اوفیلیا روئٹ مین نے کہا کہ اس کی قید کی صورت حال نے اسے ہولوکاسٹ کے دوران حراستی کیمپوں کی کہانیوں کی یاد دلا دی۔انہوں نے کہا میں بہت خوفزدہ تھی ۔ پہلے چند ہفتوں میں ، میں نے سوچا کہ میں پاگل ہو گئی ہوں کیونکہ میں اکیلی تھی، میں تقریباً روشنی کے بغیر تھی، میں تقریباً کھانے کے بغیر تھی۔ اس نے مجھے ہولوکاسٹ کی یاد دلائی۔ میں روٹی کے ٹکڑے (جمع کر رہی تھی) تاکہ کل مجھے کھانا ملے۔‘‘انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ باقی یرغمالیوں کو رہا کرنے کیلئے کارروائی کرے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ غزہ میں اب بھی۱۳۸؍ یرغمالی ہیں ، حالانکہ حالیہ دنوں میں آئی ڈی ایف نے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ۱۸؍ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ادینہ موشے کی پوتی انات موشے نے بھی اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس کی دادی واپس آگئی ہیں لیکن ان کی روح اب بھی اپنے عزیز دوستوں کے ساتھ قید ہے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ وقت ختم ہو رہا ہے۔ قید کی گئی فوجی لیری الباگ کے والد نے اس بات پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا کہ ان کی بیٹی کی زندگی قید میں کیسی گزر رہی ہے ،اس کا کوئی اندازہ نہیں ۔ صرف جب وہ سب کے ساتھ واپس آئے گی تو ہمیں معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا تجربہ کیا ہے۔ ایک باپ کے طور پر میں کیسے سو سکتا ہوں جب وہ سرنگ میں مکمل اندھیرے میں ہو؟ وہ ممکنہ طور پر سب سے زیادہ لعنتی جگہ پر ہے۔ اومر وینکرٹ کے والد، جنہیں کبوٹز ریئم کے قریب میوزک فیسٹیول میں اغوا کیا گیا تھا نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے ملک نے اس کی حفاظت نہیں کی۔